ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار :پولس عملہ کو بس اسٹانڈ پر منی ایکسچنج کی ڈیوٹی : کنڈیکٹر سے پرانے ہزاروں روپیوں کی تبدیلی : آخر یہ رقم کس کی ہے؟ عوام کا سوال

کاروار :پولس عملہ کو بس اسٹانڈ پر منی ایکسچنج کی ڈیوٹی : کنڈیکٹر سے پرانے ہزاروں روپیوں کی تبدیلی : آخر یہ رقم کس کی ہے؟ عوام کا سوال

Thu, 17 Nov 2016 17:48:34    S.O. News Service

کاروار:17/نومبر (ایس او نیوز) مرکزی حکومت نے 500اور 1000ہزارروپئے کے نوٹ دن نکلنے سے پہلے غیر قانونی قراردئیے جانے سے جہاں امیروں کے آنکھ لال ہوگئے ہیں تو وہیں چلر اور کھلے نوٹوں کے لئے عام عوام کو ہورہی دشواریاں روز کا معمول بن گئی ہیں۔

لیکن محکمہ پولس کے افسران  پرانے نوٹوں کو بینک سے بدلنے کے سردرد سے بچنے کے لئے ایک انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ بس کنڈیکٹر کے پاس جتنے بھی چھوٹی رقم اور کھلے نوٹ کی شکل میں جتنی رقم ملتی ہے اتنی لے کر انہیں 500 اور  1000ہزاروپئے کے نوٹ دے کر اپنے جیب بھر رہے ہیں۔ یہ گذشتہ تین چاردنوں سے باقاعد ہ ایک جال کی شکل اختیار کرچکاہے۔ یہ کوئی دوردراز مقام کی خبر نہیں ہے بلکہ ضلع مرکز کاروار کے بس اسٹانڈ پر تین چار دنوں سے نظر آنے سین کی منظر کشی ہے۔ ایک طرح سےپولس عملے کو  شہر کے بس اسٹانڈ پرمنی ایکسچینج کے لئے تعنیات کے جیسا ہے۔ لیکن عوام جہاں اس آئیڈیا سے حیرت زدہ ہیں وہیں یہ کہتے سنا گیا کہ محکمہ پولس کا یہ آئیڈیا بڑا خطرنا ک ہے۔ یہاں عوام تجسس  میں ہیں کہ پولس عملہ جو رقم بدل رہاہے وہ پولس اعلیٰ افسران کی ہے یا پھر سیاست دانوں کی ہے پتہ نہیں چل پارہاہے۔ اس کے علاوہ  کنڈکٹر کو کمیشن دئیے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عام عوام نوٹوں کی تبدیلی کے لئے بینک کے سامنے دن بھر قطاروں میں کھڑی ہے تو بااثر شخصیات اور سیاست دان اپنے رقم کی تبدیلی کے لئے پولس عملے کو بس اسٹانڈ پر کھڑا کرنے کی بات کہی جارہی ہے۔ جن کے پاس رقم ہے وہ ہرطرح کا رویہ اختیار کرکے اپنا بچاؤ کرنے کی فکر میں مگن ہیں۔

رقم بدلنے کا طریقہ : کاروار سے دور دراز مقامات کو جاکر لوٹنے والی بس کا کنڈیکٹر جب کاروار کے بس اسٹانڈ پر اتر کر کنٹرول روم کی طرف بڑھتاہے تو وہاں کھڑا ہواپولس عملہ کنڈیکٹر سے چھوٹی رقم اور چلر کا مطالبہ کرتاہے۔ بس میں سفر کے دوران مسافر 500اور1000کی نوٹ دیتے ہیں تو کھلے طورپر انکار کرنے والا یہی کنڈیکٹر ، پولس عملہ کے تمام جیب چھوٹی رقم اورچلر سے بھر دیتاہے۔ ’’بڑے صاحب ‘‘ کانام لے کر ممنوعہ بڑی بڑی رقم کی نوٹوں کو لے کر کنڈیکٹر خاتون پولس عملہ کے تمام جیب بھرنے تک چلر لوٹاتارہتاہے۔ خاتون پولس ڈریس کے تمام جیب بھرتی ہونے کے بعد اپنے کام پر لوٹ جانےکی اطلاعات ذرائع سے ملی ہیں۔

موصولہ اطلاع کے مطابق ایک خاتون پولس کو اسی کام کے لئے  صبح سے شام تک تعنیات کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں نے جانکاری دی ہے کہ خاتون پولس کی مدد کے لئے ایک ٹرافک پولس عملہ پارکنگ علاقہ میں گھومتارہتاہے ، جس کے پاس 1000ہزارروپیوں کے گڈے ہونے کی بات  کہی جارہی ہے۔ ٹرافک پولس عملہ ، خاتون پولس عملے کو بڑی نوٹ کی گڈیاں دے کر چلر لے چلا جاتاہے جب کہ خاتون پولس دوبارہ کسی بس کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے۔ اس طرح صبح سے شام تک یہ سلسلہ چلتے رہنے کی خبریں ہیں۔ اس ضمن میں یہ بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یہ رقم پولس اعلیٰ افسر کی ہیں اور اسی ایک اعلیٰ افسر پر سیاست دانوں کا دباؤ ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ کے ایس آرٹی سی ڈپو مینجر اور پولس محکمہ کے عملے کو استعمال کرتے ہوئے رقم تبدیل کئے جانے کا دھندہ زوروں پرہونے سے کئی شکوک پیدا ہورہے ہیں۔

فی الحال ہر جگہ چلراور چھوٹی رقم کے نوٹوں کے لئے ہنگامہ برپا ہے،عوام کو راست پر سہولت مہیا کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے خود پولس محکمہ ، محکمہ ٹرانسپورٹ سے اندرونی معاہدہ کے ذریعےرقم تبدیلی کا غلط راستہ ڈھونڈنکالنا کئی شبہات کو جنم دے رہاہے۔ کیا واقعی میں وائٹ منی کو تبدیل کیا جارہاہے یا پھر کسی بااثر شخصیات کی بلک منی کو بدلا جارہاہے آئندہ دنوں میں پتہ چلنے کی بات کہی جارہی ہے۔


Share: